Tuesday, November 23, 2021

Mahboob e Ilahi Syed Nizamuddin Aluliya Alaihirrahmah


محبوب الہی حضرت خواجہ سیدنظام الدین اولیاء چشتی علیہ الرحمہ

ہندوستان ہمیشہ سے  صوفی رشی کا مسکن رہا ہے۔ اس سرزمین نے ایسے ایسے صوفیاء کرام اور سنتوں کو جنم دیا ہے، جنہوں نے اپنی تعلیمات، روحانی تربیت اور پیار محبت سے روئے زمین پر بسنے والوں کو حقیقی خدا سے متعارف کروایا ہے۔ ان کے کارنامے اور ان کے اخلاص نے تاریکی و ظلمت میں ڈوبی  انسانیت کو ایک خدا سے متعارف کرایا ہے۔ ان کی شبانہ روز کی ریاضت و عبادت نے گم گشتہ راہ لوگوں کو معبود حقیقی سے رشتہ استوار کرایا ہے۔ ان کی جفا کشی اور عبادات نے پورے پورے علاقے کو انوار و برکات سے مالامال کیا ہے۔ انہیں نامور اور خدا ترس بندوں میں ایک نام سلطان الاولیاء، محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی ہے۔ آپ ہندوستان کے ان چنیدہ اور منتخب اولیاء کرام میں سے ہیں جنہوں نے زندگی کا ہر لمحہ انسانیت کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت میں صرف کیا ہے۔ آپ سلسلہ چشتیہ کے اس کاروان کے امیر ہیں جس کی بنیاد برصغیر میں  سلطان الہند عطائے رسول خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قد س سرہ النورانی نے رکھی تھی۔ جسے حضرت سیدنا  قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے دہلی میں پروان چڑھایا اور  حضرت  سیدنا شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے پاکپتن کے علاقوں کو ان علوم سے متعارف کروایا اور جس کی ترویج و اشاعت اور گوشہائے عالم میں پھیلانے کا سہرا حضرت  شیخ  خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے سر جاتاہے۔

 

پیدائش:

آپ کی پیدائش 9 اکتوبر 1238 کو بدایوں اتر پردیش میں شیخ سید عبداللہ بن احمد الحسینی بخاری کے گھر ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت حسین رضی اللہ علیہ سے ہوکر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ آپ کے جدِ امجد سید علی بخاری، بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے بدایوں پہنچے اور پھر یہاں سکونت اختیار کرلی۔ آپ کے نانا خواجہ عرب بھی بخارا سے ہجرت کرکے تشریف لائے تھے۔ آپ کی والدہ بی بی زلیخا نہایت متقی، پرہیزگار، زہد و ورع کی پیکر اور صابر و شاکر پاکباز خاتون تھیں۔


ابتدائی تعلیم:

آپ کی عمر محض پانچ سال کی تھی جب آپ پر یتیمی کا سایہ فگن ہوگیا۔ اس چھوٹی سی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ لیکن آپ کی جفا کش، نیک صفت، صبر و تحمل کی حامل والدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا بار اٹھایا اور مسلسل ان کے تعلیمی مشاغل کا جائزہ لیتی رہی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم مقری بدایونی کے پاس ہوئی۔ بعد ازاں مولانا علاؤالدین اصولی کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے ظاہری علوم و فنون میں مہارت حاصل کی۔ پڑھنے کا شوق، بچپن سے ہی للہیت اور زہد پیشانی پر نمایاں تھے۔ شوق تحصیل علوم نے کبھی بھی یتیمی اور دیگر دنیاوی عوارض کو خاطر میں نہیں آنے دیا۔ دہلی میں رہتے ہوئے آپ نے حضرت خواجہ شمس الدین خوارزمی سے شرعی علوم و معارف کے منازل طے کئے۔ بیس سال کی عمر میں آپ ماہر شریعت اور شرعی علوم و معارف کے ان نایاب ہستیوں میں شمار کئے جانے لگے تھے جن کے علوم پر عوام کے علاوہ خواص کا مکمل اعتماد قائم ہوگیا تھا۔

 

بیعت و سلوک:

عظیم ترین ماں کی تربیت نے بچپن سے ہی ایسا مزاج پیدا کردیا تھا جس کی بنا پر زندگی کے ابتدائی ایام میں ہی حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے فضائل و مناقب سے روشناس ہونے کے بعد شرف زیارت کو دل مچلنے لگا تھا۔ لیکن تحصیل علوم کی مشغولیت اس شوق کے درمیان حائل تھی۔ علوم قرآنیہ سے فراغت کے بعد سیدھا اجودھن (پاکپتن)روانہ ہوئے۔ دل میں سلگ رہی شمع معرفت کو ایک نگاہ یار کی ضرورت تھی۔ جب آپ آستانہ شیخ پر پہنچے، تو شیخ نے آپ کو دیکھ کر فرمایا......

اے آتش فراقت دلہا کباب کردہ

سیلاب اشتیاقت جانہا خراب کردہ

ترجمہ : تیری فرقت اور جدائی کی آگ نے کئی دلوں کو جلا دیا ہے، اور تیرے شوق کی آگ نے کئی جانوں کو خراب کردیا ہے۔

حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر کا والہانہ تعلق اس شعر سے بخوبی ہوتا ہے۔ آپ کو اپنے مرید اور شاگرد پر اس درجہ اعتماد تھا کہ آپ نے محض چند ملاقاتوں کے بعد ہی انہیں خلعت خلافت سے سرفراز فرمایا اور اپنا عمامہ اپنے دست مبارک سے حضرت نظام الدین اولیاء کے سر مبارک پر باندھا۔ نیز اپنی کھڑاؤں جو آپ کے زیر استعمال تھی وہ بھی بطور تبرک عطا پیش کردیا۔

 

دہلی میں قیام:

علوم و فنون کے منازل طے کرنے کے بعد جب آپ نے تصوف و سلوک کی وادی میں قدم رکھا، اور وقت کے شیخ کامل شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ سے خلعت خلافت کا شرف نصیب ہوا تو آپ نے خلق خدا کی جانب توجہ فرمائی، ان کی بجھی ہوئی اور تاریک زندگی میں شمع معرفت کو روشن کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ دہلی کے مختلف علاقوں میں قیام کرتے ہوئے آپ نے غیاث پور میں اپنی خانقاہ کی بناء ڈالی، تاکہ شہر کے شور شرابوں سے دور یاد الٰہی میں مصروف رہا جائے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا آپ کی مقبولیت روز افزوں بڑھتی گئی۔ عوام کا سیلاب آپ کے آستانہ پر شرف زیارت کیلئے دن و رات لگا رہتا۔ آپ نے غریبوں اور مسکینوں کے کھانے کا بندوبست کیا، ہر دن بلا ناغہ ہزاروں ضرورت مند اپنی بھوک پیاس بجھانے کیلئے تشریف لاتے اور یہاں سے مستفید ہوکر لوٹ جاتے۔ لیکن خود آپ کا حال یہ تھا کہ، جب خادم آپ کو رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں سحری کیلئے کھانا پیش کرتا تو آپ یہ کہہ کر ہاتھ کھینچ لیتے معلوم نہیں کتنے فقراء و مساکین ابھی بھوک پیاس کی شدت جھیل رہے ہوں گے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خلق خدا بھوکی رہے اور ہم شکم سیر ہوکر کھانا تناول فرمائیں۔

آپ نے دہلی میں قیام کرتے ہوئے کئی بادشاہوں کے ادوار دیکھے لیکن آپ کی شان بے نیازی کہ کبھی بھی آپ کسی کے دربار میں حاضری نہیں دی ہے۔ یہ آپ کا وطیرہ تھا کہ آپ شاہوں سے دوری اختیار کئے رہتے لیکن اللہ والوں کی شان نرالی ہوتی ہے۔ اس درویش کے در پر امراء و سلاطین کا ہجوم لگا رہتا۔ تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ دہلی کے تخت پر براجمان قطب الدین ایبک درویش کے لبادہ میں لپٹ کر آستانہ پر حاضری دی ہے، اور اپنی دینی و روحانی ضرورت کیلئے فریاد کی ہے۔

آپ کے متوسلین و منتسبین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ علاوہ ازیں آپ اپنے خلفاء کی مختلف جماعتوں کو مختلف علاقوں میں بغرض تبلیغ روانہ فرماتے۔ برصغیر کے گوشہ گوشہ میں آپ نے باعتبار ضرورت اپنے خلفاء کو داعی بنا کر روانہ کیا ہے۔ آپ کے مشہور ترین خلفاء میں شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی، امیر خسرو اور شیخ برہان الدین غریب، حضرت خواجہ اخی  سراج الدین آئینہ ہند   سعداللہ پورپنڈوہ شریف )وغیرہ ہیں۔ آپ کا امیر خسرو سے والہانہ تعلق ایک ازلی داستان ہے۔ خود کو خدا کی راہ میں لٹانے والوں کو خدا کس طرح آباد کرتاہے۔

آپ زاہد خشک نہیں تھے بلکہ قرآن و حدیث کے جید عالم دین تھے۔ آپ نے تصوف و سلوک میں جو خدمات انجام دی ہیں وہ سرزمین ہند پر خدا کا عظیم الشان احسان ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے کتابوں کی تصنیف بھی فرمائی ہیں جن میں سیر الاولیاء ، فوائد الفواد، فصل الفواد، راحت المحبین ہیں۔

آپ کے قیمتی اقوال کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ آپ کے در اقدس پر جس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں ہر مذہب کے لوگ قدم بوسی کیلئے حاضری دیا کرتے تھے، آج بھی آپ کی آرامگاہ مرجع خلائق ہے۔ دہلی کا پورا علاقہ آپ سے منسوب ہے۔ ہمہ وقت معتقدین گوشہائے عالم سے فاتحہ خوانی کو جوق در جوق تشریف لاتے ہیں۔

 

وفات:

آپ وفات سے قبل تقریباً چالیس دنوں تک نیم بیہوشی کے عالم میں رہے ۔ جب ہوش آتا سب سے پہلے نماز اور وقت نماز کے متعلق سوال فرماتے۔ بسا اوقات ذہنی ذہول کی وجہ سے نماز میں تکرار ہوجاتا۔ لیکن شرعی فرائض کی انجام دہی میں کبھی کوتاہی تو درکنار اس کا شائبہ بھی ذہن سے نہیں گزرا تھا۔ آپ کی وفات بروز بدھ 4 مارچ، 1324 بمطابق 18 ربیع الثانی 725ہجری کو بوقت طلوع آفتاب ہوئی ہے۔ آپ کی تاریخ وفات مسجد کی دیوار پر کندہ ہے۔

 


Tuesday, November 9, 2021

Mahe Rabi Ul Thani Ki Fazilat Aur Azkar o Nawafil

 

ماہ ربیع الثانی کی فضیلت اور اذکار و نوافل

یہ اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے۔ اسے ربیع الآخر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا نام رکھتے وقت ربیع کا موسم تھا یعنی ربیع کا اخیر تھا اس لیے اس کا نام ربیع الآخر رکھا گیا مگر ربیع الاول کی مناسبت سے ربیع الثانی مشہور ہوگیا۔ یہ ماہ امام الاولیاء ،  غوث الاغواث سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے مناسبت رکھتا ہے اور یہ ماہ گیارہویں شریف کے نام بھی سے موسوم ہیں۔

ملفوظات مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قد س سرہ النورانی میں ہےکہ ریبع الثانی کے مہینے کی تیسری شب کو چار رکعت نماز ادا کرے قران حکیم میں سے جو کچھ یاد ہے پڑھے سلام کے بعد یا بدوح یا بدیع کہے ، اس ماہ کے پندرہ کو چاشت کے بعد چودہ رکعتیں دو دو رکعت کرکے ادا کرے اس نماز کی ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اقرا سات بار پڑھے۔(لطائف اشرفی/لطیفہ ٣٤١/٣٨)

عابدوں کا کہنا ہے کہ جب ربیع الثانی کا چاند نظر آجائے تو اس کی شب اول میں بعد نماز مغرب آٹھ رکعت نفل دو دو کی نیت سے پڑھے اور اس میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ کوثر تین بار اور دوسری رکعت میں سورۃ کافرون تین بار، پھر تیسری، چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص تین تین بار ہر رکعت میں پڑھے۔ ان شاء اللہ اس نماز کے پڑھنے والے کو بے شمار نمازوں کا ثواب ملے گااور اس کے پڑھنے دکان و مکان میں خیر و برکت آفت و بلیات سے محفوظ رہتا ہے۔

 چار رکعت نفل: جواہر غیبی میں ہے کہ اس مہینہ کی پہلی، پندرہویں، انتیسویں تاریخوں میں چار رکعت نفل پڑھے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پانچ بار پڑھے اس کیلئے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہزار برائیاں محو کی جاتی ہیں۔

انجام بخیر کا وظیفہ: جو شخص پورا ماہ بعد نماز عشاء یہ وظیفہ روزانہ گیارہ سو گیارہ مرتبہ پڑھے گا وہ موت کے وقت کلمہ پڑھتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوگا۔ بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس وظیفے میں خاتمہ بالخیر کی بے حد تاثیر ہے۔ اس وظیفہ سے خاتمہ بالخیر ہوتا ہے۔ وظیفہ درج ذیل ہے۔ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ o اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ o ترجمہ: اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا رفیق ہے، تو مجھ کو اپنی فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اٹھا لے اور مجھ کو اپنے نیک بندوں میں داخل کرلے۔

 

ولادت /وصال/ عرس/ تعطیلات

عرس شیخ اعظم سید اظہار اشرف الجیلانی علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/عرس حضرت تیغ علی شاہ علیہ الرحمہ (سرکانہی شریف مظفرپور)/صندل حضرت شاہ محمد محمود صوفی سر مست علیہ الرحمہ / عرس امین شریعت  علامہ رفاقت حسین اشرفی علیہ الرحمہ (خلیفہ حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی قد س سرہ)/ عرس حضرت شاہ عبدالرؤف علیہ الرحمہ/ عرس حضرت ابراہیم ایرجی علیہ الرحمہ/قاضی القضاۃ حضرت امام یوسف بغدادی علیہ الرحمہ/ عرس  حضرت شاہ شہود الحق پیر بیگھہ//حضرت خواجہ غلام فرید چشتی علیہ الرحمہ/ وصال حضرت سیدنا امام مالک علیہ الرحمہ / حضرت سید غوث عبدالنبی  سہروردی گجراتی علیہ الرحمہ/ عرس علامہ عبدالمعبود نوری علیہ الرحمہ (فتح پور)/صوفی بشیر میاں ابوالعلائی علیہ الرحمہ گوالیار/ شہادت امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ /وصال حضرت احمد بن حنبل/علامہ مشتاق احمد نظامی علیہما الرحمہ/ عرس بابا جمال شاہ لاہور ی علیہ الرحمہ/ گیارہویں شریف/ عرس حضرت سید شاہ علی گنج الاسرار حسینی  بغدادی سہروردی علیہ الرحمہ   گتی آندھرا پردیش/ وصال  حضرت سید علی گنج الاسرار حسینی سہروردی علیہ الرحمہ/ عرس سلطان الواعظین  سید احمد اشرف الجیلانی علیہ الرحمہ/ حضرت عبدالقدوس گنگوہی علیہ الرحمہ/ وصال حضرت احسن العلماء علیہ الرحمہ مارہرہ شریف/عرس حضرت حاجی علی با با سہروردی  ممبئی/ عرس حضرت محبوب الہی سید نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ دہلی/ عرس سید عبداللہ شاہ محدث دکن علیہ الرحمہ/ عرس پیر عبدالجلیل چشتی   نزدقیصر باغ بس اسٹینڈ لکھنؤ/ وصال مفتی طریق اللہ اشرفی علیہ الرحمہ/ وفات سلطان محمد غزنوی/حضرت سیدامین بن عابدین شامی علیہ الرحمہ/ ولادت حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی /وصال سیدظل حسن اشرف اشرفی  علیہ الرحمہ/ وصال سیدسعادت حسین اشرف اشرفی جیلانی  علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/ عرس مولوی انور باغ لکھنؤ/ عرس حضرت باقی باللہ علیہ الرحمہ دہلی