Saturday, October 16, 2021

Eid Miladunnabi Peace Be Upon Him Ki Sharai Haisiyat


 عید میلاد النبی ﷺ کی شرعی حیثیت

از: سید شاہ تراب الحق قادری رضوی علیہ الرحمہ

 سوال : بعض لوگ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے اور محافل میلاد منعقد کرنے کو بدعت و حرام کہتے ہیں ۔ قرآن و سنت اور ائمہ دین کے اقوال کی روشنی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان فرمائیے۔

جواب: ماہ ربیع الاول میں بالعموم اور بارہ ربیع الاول کو بالخصوص آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالم اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہوا ،  اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ  ۔ ( ابراہیم ، 5 )

 امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔  ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان)

بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ،  بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا۔  (آل عمران ،164(

آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ،  اے حبیب ! تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 )

  ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ (الضحی 11، کنز الایمان(

خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔سورہ آل عمران کی آیت  81  ملاحظہ کیجیے ۔

 رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 صفحہ 201)  

آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے ۔(اسد الغابہ ج 2 ص 129(

اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ،  حضرت سیدنا  عیسیٰ بن مریم  علیہ السلم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی۔  (المائدہ ، 114، کنزالایمان(

صدر الافاضل حضرت علامہ نعیم الدین  اشرفی مرادآبادی (خلیفہ حضور اعلی حضرت اشرفی  میاں کچھوچھوی) علیہما الرحمہ فرماتے ہیں ،  یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت الیوم اکملت لکم دینکم  تلاوت فرمائی تو ایک یہودی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔

عید  میلاد             پہ              ہوں          قربان             ہماری    عیدیں

کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں

شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شب میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہنوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکہ شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟                    (ماثبت بالستہ)

جس              سہانی                         گھڑی                            چمکا                   طیبہ               کا                          چاند

اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خواب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟

ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔

امام ابن جزری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخل فرمادے ۔ ( مواہب الدنیہ ج 1 ص 27 ، مطبوعہ مصر )

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن عید میلاد کیسے منایا؟

سیرت حلبیہ ج 1 ص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ جس سال نور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت ، تر و تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے ۔ اہلسنت اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خوسی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ (مشکوۃ شریف)

حضرت  سیدتنا آمنہ  رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ،  جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ۔ (طبقاب ابن سعد ج 1 ص 102، سیرت جلسہ ج 1 ص 91)

ہم تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص  رضی اللہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 94 ، خصائص کبری ج 1 ص 40 ، زرقانی علی المواہب 1 ص 114)

حضرت سیدتنا آمنہ  رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں ، میں نے تین جھندے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 109 )

یہ حدیث  الو فابا حوال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم  میں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔(صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ)

جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔

محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ) فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں۔ (المیلاد النبوی ص 58)

امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ  م 852 ھ ) فرماتے ہیں کہ  محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے۔(فتاوی حدیثیہ ص 129)

امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189)

امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ (مواہب الدنیہ ج 1 ص 27)

شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ ( والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ، م 1176 ھ ) فرماتے ہیں کہ میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا ۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہو ا ، میں نے وہی چنے تقسیم کرد یے ۔ رات کو خواب میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو اتو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بیحد خوش اور مسرور ہیں۔ (الدار الثمین ص 8)

ان دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل منعقد کرنے اور میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔ اور اسے بدعت و حرام کہنے والے دراصل خود بدعتی و گمراہ ہیں۔


 



Sunday, October 10, 2021

Mahe RabiUl Awwal Ki Fazilat Aur Azkaar o Nawaafil

 

ماہ  ربیع الاول کی فضیلت اور اذکار و نوافل

ماہ ربیع الاول بے حد متبرک اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ اس کا شمار اسلامی مہینوں میں تیسرا ہے۔ ربیع الاول کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب ابتداء میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت موسم ربیع کی ابتدا تھی۔ یہ مہینہ خیرات و برکات اور سعادتوں کا منبع ہے۔ کیونکہ اس مہینہ کی بارہویں تاریخ کو اللہ جل شانہ نے اپنے فضل و کرم سے رحمتہ اللعالمین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیﷺ کو پیدا فرما کر اپنی نعمتوں کی بارش برسائی۔ اسی ماہ کی کی دسویں تاریخ کو محبوبِ کبریاﷺ نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ اسی لیے اس ماہ کو دوسرے مہینوں پر خصوصی فضیلت حاصل ہے۔

ماہ ربیع الاول کا چاند دیکھ کر یہ دعا  پڑھیں: اَللّٰھُمَ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَاْمَۃِ وَ الْاِسْلَاْمِہ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی رَبِّیْ وَرَبُّكَ اللّٰہُ اے اللہ سبحانہ و تعالیٰ! اس چاند کو ہمارے اوپر برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور ان اعمال کی توفیق کے ساتھ نکلا ہوا رکھ، جو تجھے پسند ہیں، اے چاند میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔(الاذکار للنووی ١٥٩)

بارہ ربیع الاول کے نوافل: ربیع الاول شریف کی پہلی تاریخ کو بعد نماز عشاء  سولہ رکعات آٹھ سلام سے پڑھے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ  کے بعد سورہ اخلاص  تین تین بار پڑھنا ہے۔ اور سلام کے بعد ایک ہزار مرتبہ یہ دورد شریف پڑھیں ’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ انِ لنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔‘‘اور ربیع الاول کی پہلی تاریخ سے لے کر بارہ تاریخ تک یہ درود پڑھنا افضل ہے۔

بارہ ربیع الاول کو نماز ظہر کے بعد بیس رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد اکیس اکیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ نماز پڑھنے کے بعد اس کا ثواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ کے طور پر پیش کرے۔ اولیاء کرام (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) نے ان نوافل پر مداومت اور ہمیشگی رکھی ہے۔ ان نوافل کی مداومت رکھنے والے کو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور پروردرگار عالم جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺکی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔

وظیفہ درود شریف: ربیع الاول کا سب سے اعلیٰ وظیفہ درود پاک کا ورد ہے لہٰذا اس ماہ میں کوشش کی جائے کہ کثرت سے درود پاک پڑھا جائے۔ کتاب المشائخ میں لکھا ہے کہ جب چاند ربیع الاول کا نظر آوے، اسی شب سے تمام مہینے تک یہ درود شریف ہمیشہ ایک ہزار پچیس بار بعد نماز عشاء کے پڑھے گا تو حضور اقدسﷺ کو خواب میں دیکھے گا۔ وہ درود شریف یہ ہے: ’’ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌمَّجِیْدٌ ‘‘ ایک بزرگ کا قول ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ ربیع الاول میں سوا لاکھ مرتبہ مندرجہ ذیل درود پاک کو پڑھے گا اسے حضورﷺ کی زیارت ہوگی اور آخرت میں اسے حضورﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ وہ درود پاک یہ ہے اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ o وَ عَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ o

ربیع الاول بارہ ، تیرہ اور چودہویں شب کو عشاء کی نماز کے بعد  یَا بَدِیْعَ الْعَجَائِب بِالْخَیْرِ یَا بَدِیْعِ سات ہزار سات سو سو اکیس بار  پڑھنے سے رزق میں خوب ترقی ہوگی۔ 

پاؤں سُن ہونے کا عمل: جب کسی کے پاؤں میں جھن جھنی چڑھے یا سُن ہو تو چاہیئے اس شخص کا نام لے جو اسکو سب سے پیارا ہو تو سب سے زیادہ ہمارے آقا  ومولا تاجدار انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں انہیں کا نام لےکر کہے یَامُحَمَّدُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ یہ عمل حدیث میں آیا ہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے۔(وظائف اشرفی/محبوب ربانی حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی صفحہ٤ ١٠ناشر نذراشرف شیخ محمد ہاشم رضا اشرفی پاکستان)

ربیع الاول میں زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص عمل: ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ یہ بڑا فضیلت و برکت والا مہینہ ہے۔ حضور سرور کائناتﷺ کی ولادت مبارکہ اسی ماہ میں ہوئی تھی۔

پہلی شب:جو کوئی اس مہینہ کی پہلی شب اور پہلے دن 2 رکعت نفل نماز رات کے وقت اور دو رکعت نفل نماز دن کے وقت اس طرح سے ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد 7 مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے تو پروردگار عالم اس شخص کو7 سوبرس کی عبادت کا اجر عطافرمائینگے۔

زیارت رسول اللہ ﷺ:جو کوئی ربیع الاول کی پہلی شب نماز عشاء کے بعد سولہ رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد تین تین مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے۔ جب تمام نوافل ادا کرے تو نہایت توجہ و یکسوئی کے ساتھ قبلہ رخ بیٹھے بیٹھے ایک ہزار مرتبہ یہ درود پاک پڑھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ پڑھنے کے بعد باوضو حالت میں ہی پاک صاف بستر پر بغیر کسی سے کوئی کلام کیے سو جائے ان شاء اللہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوگا۔

دوسری شب:ربیع الاول کی دوسری شب نماز مغرب کے بعد دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد 3,3 بار سورئہ اخلاص پڑھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد 11 بار یہ درود پاک پڑھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکَ وَسَلِّمْ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔پھر بارگاہِ الٰہی میں اپنے مقصد و مطلب کے حصول کیلئے دعا مانگے جو بھی جائز دعا مانگے انشاء اللہ تعالیٰ قبول ہوگی۔

تیسری شب:-اس ماہ کی تیسری شب کو نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھنی چاہیے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین تین بار سورہ طٰہٰ و سورئہ یٰسین پڑھے۔ سلام پھیرنے کے بعد ان نوافل کا ثواب حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت اقدس میں تحفتاً و ہدیۃً پیش کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ دینی و دنیاوی حاجات پوری ہوں گی۔


بارہ ربیع الاول کے نوافل:بارہ ربیع الاول کو نماز ظہر کے بعد بیس رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد اکیس اکیس مرتبہ سورہ  اخلاص پڑھے۔ نماز پڑھنے کے بعد اس کا ثواب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ کے طور پر پیش کرے۔ اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان نوافل پر مداومت اور ہمیشگی رکھی ہے۔ ان نوافل کی مداومت رکھنے والے کو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور پروردرگار عالم جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺکی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔

اکیس ربیع الاول:جو کوئی ربیع الاول کی اکیس تاریخ کو دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد ایک بار سورئہ مزمل پڑھے اور سلام پھیرتے ہی سجدہ ریز ہو جائے اور تین مرتبہ یہ دعا نہایت توجہ و خلوص سے پڑھے:یَاغَفُوْرُ تَغَفَّرْتَ بِالغُفْرِ وَ الْغُفْرُ فِیْ غُفْرِکَ یَاغَفُوْرُاس کے بعد جو بھی جائز دعا صدق دل سے مانگے۔ ان شاء اللہ تعالی قبول ہوگی۔

 

بزرگان دین کے اعراس /ولادت /وصال/قل شریف

عرس حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبندی علیہ الرحمہ/ اشرف الصوفیاء  حضرت سیدشاہ  احمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی علیہما الرحمہ/ وصال خواجہ فضیل بن عیاض قد س سرہ/ حضرت سیدنا میاں شیر محمد شرقپوری نقشبندی علیہ الرحمہ/ وصال مفتی اعظم اڑیسہ سید عبدالقدوس علیہ الرحمہ/شیخ العلماء علیہ الرحمہ گھوسی/عرس حضرت منگالیا شاہ  سلطان سہروردی علیہ الرحمہ /وصال امام النحو علامہ غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ (مرید وخلیفہ حضور اعلیٰ اشرفی میاں کچھوچھوی) /شہادت سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ /حضرت میاں محمد میر شاہ قادری لاہوری علیہ الرحمہ/عرس شاہ شرف الدین  علیہ الرحمہ سدھولی /عرس صوفی سرمد شہید علیہ الرحمہ مینا بازار دہلی /عرس مجذوب الہی صوفی سرمد شہید دہلوی علیہ الرحمہ /عرس قطب المشائخ حضرت سیدقطب اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/عرس سید شاہ عبدالرزاق پاک حسینی  سہروردی  بنگال/عر س حضرت مخدوم علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری علیہ الرحمہ کلیرشریف/عرس سیدانواراشرف اشرفی  جیلانی  کچھوچھہ شریف / خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہما الرحمہ/عرس سیدمظاہر اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/  خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ/ولادت حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ /مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی علیہ الرحمہ /عرس سیدمصطفی اشرف اشرفی علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/عرس آل رسول علیہ الرحمہ مارہرہ شریف/عرس حضرت مولانا اجمل شاہ علیہ الرحمہ (سنبھل)/عرس واحدی طیبی بلگرام شریف /وصال حضرت سید کمیل اشرف علیہ الرحمہ کچھوچھہ شریف/عرس حضرت  خدابخش ریاؤں علیہ الرحمہ  بہار/وصال حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ /عرس فصل الرحمن گنج مرادآبادی / حضرت کریم شاہ  ناگپوری / شاہ زاہد شریف مالدہ علیہماالرحمہ  /عرس  سید جعفر علیہ الرحمہ بہار شریف/عرس شیخ کلیم اللہ ولی جہاں آبادی  علیہ الرحمہ/وصال حضرت سیدامین اشرف اشرفی  کچھوچھہ شریف/ شاہ نبی رضا دادا میاں علیہما الرحمہ لکھنؤ/عرس حضرت بوعلی شاہ قلندر علیہ الرحمہ /عرس برہان ملت علیہ الرحمہ جبلپور/حضرت سید حسام الدین  تیغ برہنہ سہروردی علیہ الرحمہ  گلبرگہ شریف/نذر بارگاہ غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی قد س سرہ النورانی۔